يقدم قومه يوم القيامة فاوردهم النار وبيس الورد المورود ٩٨
يَقْدُمُ قَوْمَهُۥ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ فَأَوْرَدَهُمُ ٱلنَّارَ ۖ وَبِئْسَ ٱلْوِرْدُ ٱلْمَوْرُودُ ٩٨
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

ذرا اس منظر کو دیکھئے ! آغاز یوں ہوتا ہے کہ قصہ ماضی کا ہے اور مستقبل میں انجام بد کا ڈراوا ہے۔ اچانک یہ منظر عملاً شروع ہوجاتا ہے۔ مستقبل ماضی میں بدل جاتا ہے اور اسکرین پر مابضی کی حالت چتلی ہے۔ فرعون نے گویا قیامت میں ان کی قیادت کر ہی ڈالی۔

(فَأَوْرَدَهُمُ النَّارَ ) “ مویشیوں کی طرح انہیں آگ کے گھاٹ پر لے گیا ”۔ جس طرح ایک چروایا اپنی بکریوں کو پانی پلانے کے لیے گھاٹ پر لے جاتا ہے ۔ بیشک یہ لوگ جانوروں کا ایک ریوڑ ہی تو تھے۔ ریوڑ نے کبھی غور وفکر کیا ہے ، کیا انہوں نے انسانیت کی اعلیٰ صفات یعنی غور وفکر کرنے سے انکار نہیں کردیا ؟ اور حریت و اراداہ سے دست برداری اختیار نہیں کرلی ؟ لہذا وہ اس بات کے مستحق ہیں کہ جہنم کے گھاٹ پر پہنچ جائیں ، جاں ان کی پیاس نہ بجھے گی۔ جہاں ان کا سینہ ٹھنڈا نہ ہوگا بلکہ وہاں کا پانی تو ان کی آنتوں اور ہونٹوں کو بھون ڈالے گا ، دل جلا دے گا۔

بِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُودُ (11-98) “ کیسی بدتر جائے ورود ہے یہ ”۔ یہ تو ایک منظر تھا جس میں فرعون ان کی قیادت کر رہا ہے اور ان کو آک تک پہنچاتا ہے۔ لیکن اس منظر پر تبصرہ یوں ہے :