You are reading a tafsir for the group of verses 11:7 to 11:8
وهو الذي خلق السماوات والارض في ستة ايام وكان عرشه على الماء ليبلوكم ايكم احسن عملا ولين قلت انكم مبعوثون من بعد الموت ليقولن الذين كفروا ان هاذا الا سحر مبين ٧ ولين اخرنا عنهم العذاب الى امة معدودة ليقولن ما يحبسه الا يوم ياتيهم ليس مصروفا عنهم وحاق بهم ما كانوا به يستهزيون ٨
وَهُوَ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ فِى سِتَّةِ أَيَّامٍۢ وَكَانَ عَرْشُهُۥ عَلَى ٱلْمَآءِ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًۭا ۗ وَلَئِن قُلْتَ إِنَّكُم مَّبْعُوثُونَ مِنۢ بَعْدِ ٱلْمَوْتِ لَيَقُولَنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ إِنْ هَـٰذَآ إِلَّا سِحْرٌۭ مُّبِينٌۭ ٧ وَلَئِنْ أَخَّرْنَا عَنْهُمُ ٱلْعَذَابَ إِلَىٰٓ أُمَّةٍۢ مَّعْدُودَةٍۢ لَّيَقُولُنَّ مَا يَحْبِسُهُۥٓ ۗ أَلَا يَوْمَ يَأْتِيهِمْ لَيْسَ مَصْرُوفًا عَنْهُمْ وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُوا۟ بِهِۦ يَسْتَهْزِءُونَ ٨
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

موجودہ دنیا کو خدا نے چھ دنوں یعنی چھ ادوار (periods) میں پیدا کیا ہے۔ زمین پر ایک ایسا دور گزرا ہے جب کہ اس کی سطح پانی سے ڈھکی ہوئی تھی۔ خدا کی سلطنت کے اس حصہ میں اس وقت صرف پانی نظر آتا تھا۔ ا س کے بعد خدا کے حکم سے خشکی کے علاقے ابھر آئے اور پانی سمندروں کی گہرائی میں جمع ہوگیا۔ اس طرح یہ ممکن ہوا کہ زمین پر موجودہ انواع حیات ظہور میں آئیں۔

خدا اگر چہ قادر ہے کہ واقعات کو اچانک ظاہر کردے۔ مگر یہ دنیا انسان کے لیے بطور امتحان گاہ بنائی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خدا نے موجودہ دنیا کو منصوبہ کے تحت بنایا اور اپنی تخلیقات پر اسباب کا پردہ قائم رکھا۔

دنیا کی پیدائش اور اس پر انسان کی آبادکاری سے خدا کا مقصود اچھا عمل کرنے والے کا انتخاب ہے۔ ’’اچھا عمل ‘‘ دراصل حقیقت پسندانہ عمل کا دوسرا نام ہے۔ یعنی کسی دباؤکے بغیر وہ کرنا جو از روئے حقیقت آدمی کو کرنا چاہیے۔ حقیقت پسند شخص وہ ہے جو اسباب کے ظاہری پردہ سے گزر کر خدا کی چھپی ہوئی کارفرمائی کو دیکھ لے۔ بظاہر اختیار رکھتے ہوئے اپنے آپ کو بے اختیار کرلے۔ سرکشی کی زندگی گزارنے کا موقع رکھتے ہوئے خدا کا تابعدار بن جائے۔

موجودہ دنیا میں ایسے ہی حقیقت پسند انسانوں کا چناؤ ہورہا ہے۔ جب چناؤ کی یہ مدت ختم ہوگی تو موجودہ نظام کو ختم کرکے دوسرا معیاری نظام بنایا جائے گا جہاں تمام اچھی چیزیں صرف اچھا عمل کرنے والوں کے لیے ہوں گی اور تمام بری چیزیں صرف برا عمل کرنے والوں کے لیے۔

اللہ تعالیٰ اپنے قانون مہلت کی وجہ سے منکروں اور سرکشوں کو فوراً نہیں پکڑتا۔ ان کو انتہائی حد تک موقع دیتاہے کہ وہ یا تو متنبہ ہوکر اپنی اصلاح کرلیں یا آخری طورپر اپنے آپ کو مجرم ثابت کردیں۔ یہ قانون مہلت بعض سرکشوں کے لیے غلط فہمی کا سبب بن جاتاہے۔ وہ اپنی حیثیت کو بھول کر بڑی بڑی باتیں کرنے لگتے ہیں۔ مگر جب وہ خدا کی پکڑ میں آجائیںگے اس وقت انھیں معلوم ہوگا کہ وہ خدا کے مقابلہ میں کس قدر بے بس تھے۔