خدا کے جتنے پیغمبر آئے، اسی لیے آئے کہ وہ انسان کو خدا کے تخلیقی منصوبہ سے آگاہ کریں۔ یہ منصوبہ کہ انسان موجودہ دنیا میں بغرض امتحان رکھا گیاہے۔ یہاں اگر چہ بظاہر مختلف چیزوں کی عبادت کے مواقع ہیں۔ مگر اصل مطلوب صرف یہ ہے کہ انسان خدا کا عابد بنے۔ جو لوگ خدا کے عابد نہ بنیں وہ امتحان میں ناکام ہوگئے ۔ ایسے لوگوں کے لیے مرنے کے بعد کی زندگی میں سخت عذاب ہے۔ حضرت نوح نے اپنی قوم کے لوگوں سے یہی بات کہی۔ وہ اس کے لیے نذیر مبین بن گئے۔ مگر آپ کی قوم نے آپ کی بات نہیں مانی۔
اس کی وجہ لوگوں کی ظاہر پرستی تھی۔ انسان کی گمراہی کی نظریاتی طورپر بہت سی قسمیں ہیں۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے ہر دور کے انسانوں کی گمراہی صرف ایک رہی ہے۔ اور وہ ہے ظاہر پرستی یا دنیا پسندی۔ دنیا پرست لوگ، عین اپنے مزاج کے مطابق، دنیوی چیزوں کو حق اور ناحق کا معیار سمجھتے ہیں۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طورپر یہ فرض کرلیتے ہیں کہ جس کے پاس ظاہری رونقیں ہوں وہ حق پر ہے اور جو دنیا کی رونقوں سے محروم ہو وہ ناحق پر۔
خدا کا داعی جب اٹھتاہے تو اپنے ہم عصروں کو وہ صرف انسانوں میں سے ایک انسان نظر آتاہے ۔ دنیوی اعتبار سے اس کے گرد وپیش بڑائی کا کوئی خصوصی نشان نہیں ہوتا۔ دوسری طرف یہ ہوتاہے کہ وہ جس دین کا علم بردار ہوتاہے اس کے ساتھ چوں کہ ابھی تک دنیوی فائدے وابستہ نہیں ہوتے، اس لیے اس کی طرف بڑھنے والے زیادہ وہ تہی دست لوگ ہوتے ہیں جنھیں ایک ’’نئے دین‘‘ کو اختیار کرنے کے نتیجہ میں کچھ کھونا نہ پڑے۔ یہ صورت حال خاص طور پر، وقت کے بڑوں کے لیے، فتنہ بن جاتی ہے۔ وہ سمجھ لیتے ہیں کہ جب دنیا ان کے ساتھ نہیں ہے تو حق بھی ان کے ساتھ نہیں ہوسکتا۔ حتی کہ قوم میں ایسے لوگ بھی نکلتے ہیں جو ان کو جھوٹا اور دھوکا باز کہنے سے بھی دریغ نہ کریں۔