’’خدا پر جھوٹ گھڑنے‘‘ سے مراد خدا کی ذات پر جھوٹ گھڑنا نہیں ہے۔ اس سے مراد خدا کی بات پر جھوٹ گھڑنا ہے۔ خدا اپنا پیغام سنانے کے لیے خود سامنے نہیں آتا بلکہ ایک انسان کی زبان سے اس کا اعلان کراتا ہے۔ یہ انسان اس وقت بظاہر ایک معمولی انسان ہوتاہے، مگر اس کے کلام میں خدا کی واضح جھلکیاں ہوتی ہیں۔ اگر لوگ اس کو اس کے کلام کے اعتبار سے دیکھیں تو وہ اس کی عظمتوں میں خدا کو پالیں۔ مگر لوگوں کی سطحیت اور ظاہر پرستی کانتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی نگاہیں سنانے والے کی معمولی حیثیت میں اٹک کر رہ جاتی ہیں۔ پیغمبر کا معمولی ہونا انھیں نظر آتا ہے مگر پیغام کاغیر معمولی ہونا انھیں دکھائی نہیں دیتا۔ چنانچہ وہ اس کو ایک عام انسان کا معاملہ سمجھ کر اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اس کی بات میں جھوٹے اعتراضات نکالتے ہیں۔ اور اس کو اس طرح نظر انداز کردیتے ہیں جیسے کہ اس کی کوئی اہمیت ہی نہیں۔
اس ظالمانہ رویہ کی اصل وجہ بے خوفی کی نفسیات ہے۔لوگوں کو آخرت پر یقین نہیں۔ ان کے دلوں میں خدائے قہار وجبار کا خوف نہیں۔ اس لیے وہ اس پیغام کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہوپاتے اور جس معاملہ میں آدمی سنجیدہ نہ ہو وہ اس کے متعلق صحیح رد عمل پیش کرنے میں ہمیشہ ناکام رہے گا۔
مگر لوگوں کی یہ غیر سنجیدگی اس وقت رخصت ہوجائے گی جب وہ قیامت میں مالک کائنات کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ اس وقت ان کی موجودہ آزادی ان سے چھن چکی ہوگی۔ جن اسباب و وسائل کے بھروسہ پر وہ سرکش بنے ہوئے تھے وہ خدا کا ٹیپ ریکارڈر بن کر ان کے خلاف گواہی دینے لگیں گے۔ اس وقت عیاناً یہ کھل جائے گا کہ خدا کے داعی کو جو انھوں نے جھٹلایا تو اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ اس کو سمجھنے سے عاجز تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اس کے بارے میں سنجیدہ نہ تھے۔ قیامت کی ہولناکی اچانک انھیں سنجیدہ بنادے گی۔ اس وقت اپنی بے بسی کے ماحول میں وہ اس بات کو پوری طرح سمجھ لیں گے جس کو دنیا میں اپنی آزادی کے ماحول میں سمجھ نہیں پاتے تھے۔
اللہ نے انسان کو ایسی اعلیٰ صلاحیتیں دی ہیں کہ اگر وہ ان کو استعمال کرے تو وہ ہر بات کو اس کی گہرائی تک سمجھ سکتاہے۔ اور اپنے دنیوی معاملات میں واقعۃً وہ ایسا ہی ثابت ہوتاہے۔ مگر آخرت کے معاملہ میں آدمی کا حال یہ ہے کہ وہ کان رکھتے ہوئے بہرا بن جاتاہے اور آنکھ رکھتے ہوئے اندھے پن کا ثبوت دیتاہے۔
آدمی کی کامیابی اس کی سنجیدگی (sincerity) کی قیمت ہے۔ جو لوگ دنیا کے معاملہ میں سنجیدہ ہوں وہ دنیا میں کامیاب رہتے ہیں۔ اسی طرح جو لوگ آخرت کے معاملہ میں سنجیدہ ہوں وہ آخرت میں کامیاب رہیں گے۔