آیت 17 اَفَمَنْ کَانَ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّہٖ بَیِّنَۃ واضح دلیل سے مراد انسان کی فطرت سلیمہ ہے۔ انسان کے اندر جو روح ربانی پھونکی گئی ہے اس کی وجہ سے اللہ کی معرفت اس کے اندر موجود ہے۔ مگر یہ معرفتِ الٰہی انسان کے اندر خوابیدہ dormant ہوتی ہے۔ پھر جب وحی کے ذریعے واضح ہدایت اس تک پہنچتی ہے تو وہ خوابیدہ معرفت فوراً جاگ جاتی ہے۔وَیَتْلُوْہُ شَاہِدٌ مِّنْہُ یعنی ایک سلیم الفطرت شخص جس کو خود اپنے وجود میں اور زمین و آسمان کی ساخت اور کائنات کے نظم و نسق میں توحید باری تعالیٰ کی واضح شہادت مل رہی تھی ‘ جب اس کے پاس قرآن کی صورت میں اللہ کی طرف سے ایک گواہی بھی آگئی ‘ تو یہ ”نورٌ علٰی نورٍ“ والا معاملہ ہوگیا۔ اور پھر اس پر مستزاد تورات کی تصدیق۔ وَمِنْ قَبْلِہٖ کِتٰبُ مُوْسٰٓی اِمَامًا وَّرَحْمَۃً ایسا سلیم الفطرت شخص کیونکر ایمان نہیں لائے گا ؟ یہ تمثیل زیادہ وضاحت کے ساتھ سورة النور میں بیان ہوئی ہے۔وَمَنْ یَّکْفُرْ بِہٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُہٗ تو اب جو بھی اس کتاب کے منکر ہوں چاہے وہ مشرکین مکہ میں سے ہوں ‘ دوسرے کفار میں سے ‘ یا اہل کتاب میں سے ‘ ان کا موعود ٹھکانا بس دوزخ ہے۔