You are reading a tafsir for the group of verses 10:99 to 10:100
ولو شاء ربك لامن من في الارض كلهم جميعا افانت تكره الناس حتى يكونوا مومنين ٩٩ وما كان لنفس ان تومن الا باذن الله ويجعل الرجس على الذين لا يعقلون ١٠٠
وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَـَٔامَنَ مَن فِى ٱلْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا ۚ أَفَأَنتَ تُكْرِهُ ٱلنَّاسَ حَتَّىٰ يَكُونُوا۟ مُؤْمِنِينَ ٩٩ وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَن تُؤْمِنَ إِلَّا بِإِذْنِ ٱللَّهِ ۚ وَيَجْعَلُ ٱلرِّجْسَ عَلَى ٱلَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ ١٠٠
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

’’تیرا رب چاہتا تو سارے لوگ مومن بن جاتے‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے لیے یہ ممکن تھا کہ انسانی دنیا کا نظام بھی اسی طرح بنائے جس طرح بقیہ دنیا کا نظام ہے۔ جہاں ہر چیز مکمل طورپر خدا کے حکم کی پابندبنی ہوئی ہے۔ مگر انسان کے سلسلہ میں خدا کی یہ اسکیم ہی نہیں۔ انسان کے سلسلہ میں خدا کی اسکیم یہ ہے کہ آزادانہ ماحول میں رکھ کر انسان کو یہ موقع دیا جائے کہ وہ خود اپنے ذاتی فیصلہ سے خدا کا فرماں بردار بنے۔ وہ اپنے اختیار سے وہ کام کرے جو بقیہ دنیا بے اختیاری کے ساتھ کررہی ہے۔ جنت کی ابدی نعمتیں اسی اختیارانہ اطاعت کی قیمت ہیں۔

’’کوئی شخص خدا کے اذن کے بغیر ایمان نہیں لاسکتا‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں کسی کو ایمان کی نعمت ملے گی تو اس طریقہ کی پیروی کرکے ملے گی جو خدا نے اس کے لیے مقرر کردیا ہے۔ موجودہ دنیا میں ایمان کو پانے کا راستہ یہ ہے کہ آدمی ایمان کی دعوت کو اپنی عقل کے استعمال سے سمجھے ۔ جس شخص کی عقل کے اوپر اس کی دنیوی مصلحتیں غالب آجائیں اس کی عقل گویا گندگی کی کیچڑ میں لت پت ہوگئی ہے۔ ایسے شخص کے لیے اس دنیا میں ایمان کی نعمت پانے کا کوئی سوال نہیں۔