قال قد اجيبت دعوتكما فاستقيما ولا تتبعان سبيل الذين لا يعلمون ٨٩
قَالَ قَدْ أُجِيبَت دَّعْوَتُكُمَا فَٱسْتَقِيمَا وَلَا تَتَّبِعَآنِّ سَبِيلَ ٱلَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ٨٩
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

قال قد اجیبت دعوتکما اللہ نے (حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون سے) فرمایا : تم دونوں کی دعا قبول کرلی گئی۔

حضرت موسیٰ دعا کر رہے تھے اور حضرت ہارون آمین کہہ رہے تھے ‘ اسلئے دعا کی نسبت دونوں کی طرف کی گئی۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ کی دعا چالیس برس کے بعد قبول ہوئی تھی۔

فاستقیما پس تم قائم رہنا۔ یعنی رسالت اور دعوت پر قائم رہنا اور میرے حکم پر چلنا یہاں تک کہ ان پر عذاب آجائے گا۔

ولا تتبعٰن سبیل الذین لا یعلمون۔ اور نادانوں کے طریق کی پیروی نہ کرنا کہ نادانوں کی طرح نزول عذاب میں جلدی کرنے لگو۔ یا اللہ کے وعدہ پر پورا بھروسہ نہ رکھو۔