فما امن لموسى الا ذرية من قومه على خوف من فرعون ومليهم ان يفتنهم وان فرعون لعال في الارض وانه لمن المسرفين ٨٣ وقال موسى يا قوم ان كنتم امنتم بالله فعليه توكلوا ان كنتم مسلمين ٨٤ فقالوا على الله توكلنا ربنا لا تجعلنا فتنة للقوم الظالمين ٨٥ ونجنا برحمتك من القوم الكافرين ٨٦
فَمَآ ءَامَنَ لِمُوسَىٰٓ إِلَّا ذُرِّيَّةٌۭ مِّن قَوْمِهِۦ عَلَىٰ خَوْفٍۢ مِّن فِرْعَوْنَ وَمَلَإِي۟هِمْ أَن يَفْتِنَهُمْ ۚ وَإِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍۢ فِى ٱلْأَرْضِ وَإِنَّهُۥ لَمِنَ ٱلْمُسْرِفِينَ ٨٣ وَقَالَ مُوسَىٰ يَـٰقَوْمِ إِن كُنتُمْ ءَامَنتُم بِٱللَّهِ فَعَلَيْهِ تَوَكَّلُوٓا۟ إِن كُنتُم مُّسْلِمِينَ ٨٤ فَقَالُوا۟ عَلَى ٱللَّهِ تَوَكَّلْنَا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةًۭ لِّلْقَوْمِ ٱلظَّـٰلِمِينَ ٨٥ وَنَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ ٱلْقَوْمِ ٱلْكَـٰفِرِينَ ٨٦
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
نئے فکر کو قبول کرنا ہمیشہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ آدمی اپنے معاشرہ میں نئے نئے مسائل سے دوچار ہو جائے۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ عمر کے لوگ اکثر کسی نئے فکر کو قبول کرنے میں محتاط ہوتے ہیں۔ مختلف وجوہ سے زیادہ عمر کے لوگوں پر مصلحت کا غلبہ ہوجاتاہے۔ وہ نئے فکر کی صحت کو ماننے کے باوجود آگے بڑھ کر اس کا ساتھ نہیںدے پاتے۔
مگر نوجوان طبقہ عام طورپر اس قسم کی مصلحتوں سے خالی ہوتاہے۔ چنانچہ ہمیشہ تاریخ میں ایسا ہوا کہ کسی نئی اور انقلابی دعوت کو قبول کرنے میں وہی لوگ زیادہ آگے بڑھے جو ابھی زیادہ عمر کو نہیں پہنچے تھے۔ یہی صورتِ حال حضرت موسیٰ کے ساتھ پیش آئی۔
حضرت موسیٰ کا ساتھ دینے والے نوجوان کو ایک طرف فرعون کا خطرہ تھا۔ دوسری طرف خود اپنی قوم کے بڑوں کی طرف سے ان کو حوصلہ افزائی نہیں ملی۔ یہ بڑے اگر چہ حضرت موسیٰ کی نبوت کو مانتے تھے مگر اپنی مصلحت اندیشی کی بناپروہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کے بیٹے بیٹیاں پُرجوش طورپر حضرت موسی کا ساتھ دیں اور اس کے نتیجہ میں وہ فرعون کے ظلم کا شکار بنیں۔
مگر اس قسم کی صورتِ حال کا تقاضا یہ نہیں ہوتا کہ آدمی مخالفین حق کے ڈر سے خاموش ہو کر بیٹھ جائے۔ اس کو چاہیے کہ وہ انسانی مخالفتوں کے مقابلہ میں خدائی نصرتوں پر نظر رکھے، وہ خدا کے بھروسہ پر اس حق کا ساتھ دینے کے لیے اٹھ کھڑا ہو جس کا ساتھ دینے کے لیے ذاتی طور پر وہ اپنے آپ کو عاجز پارہا تھا۔