وما كان هاذا القران ان يفترى من دون الله ولاكن تصديق الذي بين يديه وتفصيل الكتاب لا ريب فيه من رب العالمين ٣٧
وَمَا كَانَ هَـٰذَا ٱلْقُرْءَانُ أَن يُفْتَرَىٰ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَلَـٰكِن تَصْدِيقَ ٱلَّذِى بَيْنَ يَدَيْهِ وَتَفْصِيلَ ٱلْكِتَـٰبِ لَا رَيْبَ فِيهِ مِن رَّبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ ٣٧
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

وما کان ھذا القرآن ان یفترٰی من دون اللہ اور یہ قرآن ایسا نہیں کہ اللہ کی طرف سے نازل ہوئے بغیر ازخود اس کو بنا لیا جائے اور ان کی طرف اس کی نسبت کردی جائے۔

ولکن تصدیق الذی بین یدیہ بلکہ یہ تو ان کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے جو اس سے پہلے نازل ہوچکی ہیں۔

الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْہِ سے مراد یا رسول اللہ (ﷺ) کی ذات مبارک ہے ‘ یا گزشتہ کتب الٰہیہ (ترجمہ میں یہی بیان کیا ہے) یا قیامت ‘ یا بعثت نبوی جس کی خبر سابق کتابوں میں دے دی گئی تھی۔

و تفصیل الکتب لاریب فیہ من رب العٰلمین۔ اور احکام ضروریہ (الٰہیہ) کی تفصیل بیان کرنے والا ہے ‘

اس میں کوئی بات شک (و شبہ) کی نہیں کہ یہ رب العالمین کی طرف سے ہے۔

تفصیل الکتاب (احکام ضروریہ کی تفصیل) یعنی لوح محفوظ میں اللہ کے احکام ‘ فرائض اور حلال و حرام کی تشریح ہے۔ اس کا بیان یہ قرآن ہے۔ لاَ رَیْبَ فِیْہِ یعنی اس میں کوئی بات شک کے قابل نہیں کیونکہ یہ گزشتہ آسمانی کتابوں کے بالکل موافق ہے۔

سابق آیت میں دماغی تک بندیوں کے اتباع کی ممانعت کی گئی ہے۔ اس آیت میں واجب الاتباع کتاب کا ذکر ہے اور تنبیہ ہے کہ اس قرآن کا اتباع کیا جائے۔ اس کا اتباع لازم ہے۔