وما كان الناس الا امة واحدة فاختلفوا ولولا كلمة سبقت من ربك لقضي بينهم فيما فيه يختلفون ١٩
وَمَا كَانَ ٱلنَّاسُ إِلَّآ أُمَّةًۭ وَٰحِدَةًۭ فَٱخْتَلَفُوا۟ ۚ وَلَوْلَا كَلِمَةٌۭ سَبَقَتْ مِن رَّبِّكَ لَقُضِىَ بَيْنَهُمْ فِيمَا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ ١٩
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

وما کان الناس الا امۃ واحدۃ اور نہیں تھے لوگ مگر ایک گروہ۔ یعنی سب موحد تھے ‘ فطرت پر تھے یا اسلام پر تھے مطلب یہ کہ حضرت آدم کے زمانہ سے حضرت نوح کی بعثت سے کچھ پہلے تک یا طوفان کے بعد یا حضرت ابراہیم کے عہد سے عمرو بن لحی کے زمانہ تک سب لوگ توحید پر تھے۔

یا ایک امت سے مراد ہے گمراہی پر سب کا اتفاق۔ مطلب یہ کہ زمانۂ فترۃ (انقطاع رسالت) میں سب لوگ گمراہ تھے۔

فاختلفوا پس ان میں (نفس پرستی اور خواہشات کی پیروی کی وجہ سے) اختلاف ہوگیا (ان کے فرقے بن گئے) یا پیغمبروں کی بعثت کی وجہ سے گمراہ جماعت میں پھوٹ پڑگئی۔ ایک گروہ پیغمبر وں کا متبع اور دوسرا گروہ پیغمبروں کی تکذیب کرنے والا۔

ولولا کلمۃ سبقت من ربک لقضی بینھم فیما فیہ یختلفون۔ اور اگر ایک بات نہ ہوتی جو آپ کے رب کی طرف سے پہلے ٹھہر چکی ہے تو جس چیز میں یہ اختلاف کر رہے ہیں ‘ اس کا قطعی فیصلہ (دنیا میں ہی) ہوچکا ہوتا۔ کلمۂ سابقہ سے مراد ہے اللہ کا وہ ازلی فیصلہ کہ ہر امت کی ایک میعاد زندگی مقرر ہے۔ کلبی نے کہا : کلمۂ سابقہ سے یہ مراد ہے کہ اللہ نے اس امت کو ڈھیل دینے اور دنیوی عذاب سے ہلاک نہ کرنے کا وعدہ فرما لیا ہے۔ لَقُضِیَ بَیْنَھُمْ یعنی دنیا میں عذاب نازل کردیا جاتا اور تکذیب کرنے والوں کو فوراً ہلاک کردیا جاتا ‘ یہی ان کے اختلاف کا فیصلہ ہوجاتا۔ حسن نے کہا : اللہ کا ازلی فیصلہ ہوچکا تھا کہ قیامت سے پہلے دنیا میں عذاب وثواب کی شکل میں ان کے اختلاف کا فیصلہ نہیں کیا جائے گا کہ دنیا میں ہی جنت یا دوزخ میں داخل کردیا جائے بلکہ اللہ کی طرف سے جنت و دوزخ میں داخلہ کا وقت روز قیامت کو مقرر کردیا گیا ہے۔