قل يا ايها الناس ان كنتم في شك من ديني فلا اعبد الذين تعبدون من دون الله ولاكن اعبد الله الذي يتوفاكم وامرت ان اكون من المومنين ١٠٤
قُلْ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِن كُنتُمْ فِى شَكٍّۢ مِّن دِينِى فَلَآ أَعْبُدُ ٱلَّذِينَ تَعْبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَلَـٰكِنْ أَعْبُدُ ٱللَّهَ ٱلَّذِى يَتَوَفَّىٰكُمْ ۖ وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ ١٠٤
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

قل یایھا الناس ان کنتم فی شک من دینی آپ کہہ دیجئے : اے لوگو ! (یعنی اے اہل مکہ) اگر تم میرے دین (کی صحت) میں شک کرتے ہو۔ اہل مکہ کی نظر میں نبوت بہت ہی بعید از فہم چیز تھی لیکن آیات کو دیکھ کر ماننے پر مجبور تھے مگر پیدائشی بدبختی کی وجہ سے شک و تردد میں پڑے ہوئے تھے (گویا آیات کو دیکھ کر ماننے پر مجبور تھے اور فطری شقاوت ان کے دلوں میں اطمینان پیدا نہیں ہونے دیتی تھی) ۔

فلا اعبد الذین تعبدون من دون اللہ پس میں ان (پتھروں کے بتوں) کی پوجا نہیں کرتاجن کی پوجا تم لوگ اللہ کے سوا کرتے ہو۔

ولکن اعبد اللہ الذی یتوفٰکم بلکہ اس اللہ کی پوجا کرتا ہوں جو تمہاری جانیں قبض کرتا ہے۔

یعنی جو تم کو زندگی عطا کرتا ہے ‘ پھر موت دیتا ہے اور جو کچھ چاہتا ہے اور جس طرح چاہتا ہے ‘ پیدا کرتا ہے (اگرچہ تخلیق موت وحیات دونوں مراد ہیں لیکن) صرف وفات کا ذکر تہدید پیدا کرنے کیلئے فرمایا : فَلاَ اَعْبُدُ ۔ اِنْ کُنْتُمْ کی جزاء نہیں ہے بلکہ جزاء کے قائم مقام ہے۔ سبب کو مسبب کی جگہ قائم کیا ہے۔ کلام کا مغز یہ ہے کہ اگر تم کو میرے دین کی صحت میں شک ہے تو میرے دین پر غور و فکر کر کے اس شک کو دور کر دو ۔ دیکھو ! میں ان پتھروں کو نہیں پوجتا جن کے قبضہ میں نہ نفع ہے نہ ضرر بلکہ اس خدا کو پوجتا ہوں جو خالق ‘ قدرت والا اور نفع و ضرر کا مختار ہے۔

وامرت ان اکون من المؤمنین۔ اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ ایمان والوں میں سے ہوں (ایماندار رہوں) یعنی عقلی دلائل اور آسمانی کتابوں کا حکم ہے کہ میں ایماندار بنوں اور مؤمن رہوں۔