You are reading a tafsir for the group of verses 10:101 to 10:103
قل انظروا ماذا في السماوات والارض وما تغني الايات والنذر عن قوم لا يومنون ١٠١ فهل ينتظرون الا مثل ايام الذين خلوا من قبلهم قل فانتظروا اني معكم من المنتظرين ١٠٢ ثم ننجي رسلنا والذين امنوا كذالك حقا علينا ننج المومنين ١٠٣
قُلِ ٱنظُرُوا۟ مَاذَا فِى ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ وَمَا تُغْنِى ٱلْـَٔايَـٰتُ وَٱلنُّذُرُ عَن قَوْمٍۢ لَّا يُؤْمِنُونَ ١٠١ فَهَلْ يَنتَظِرُونَ إِلَّا مِثْلَ أَيَّامِ ٱلَّذِينَ خَلَوْا۟ مِن قَبْلِهِمْ ۚ قُلْ فَٱنتَظِرُوٓا۟ إِنِّى مَعَكُم مِّنَ ٱلْمُنتَظِرِينَ ١٠٢ ثُمَّ نُنَجِّى رُسُلَنَا وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ۚ كَذَٰلِكَ حَقًّا عَلَيْنَا نُنجِ ٱلْمُؤْمِنِينَ ١٠٣
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

ہمارے چاروں طرف جو کائنات ہے اس میں بے شمار نشانیاں موجود ہیں جو خدا کے وجود کو ثابت کرتی ہیں۔ اور اسی کے ساتھ یہ بھی بتاتی ہیں کہ اس کائنات کے بارے میں خدا کا منصوبہ کیا ہے۔ مزید یہ کہ دنیا میں ڈراوے (آندھی اور بھونچال) جیسے واقعات بھی پیش آتے رہتے ہیں جو انسان کو خدااور آخرت کے معاملہ میں سنجیدہ بنائیں۔ مگر یہ سب کچھ عالم امتحان میں ہوتاہے، یعنی ایسی دنیا میں جہاں آدمی کو اختیار ہے کہ مانے یہ نہ مانے۔ چنانچہ آدمی یہ کرتا ہے کہ جب نشانیاں اور ڈراوے سامنے آتے ہیں تو وہ ان کی کوئی نہ کوئی خود ساختہ توجیہہ کرکے بات کو دوسرے رخ کی طرف پھیر دیتاہے اور نصیحت سے محروم رہ جاتا ہے۔

جب آدمی دلیل کی زبان میں بات کو نہ مانے تو گویا وہ صرف اس دن کا انتظار کررہا ہے جب کہ امتحان کا پردہ ہٹا دیا جائے اور خدا اپنا آخری فیصلہ سنانے کے لیے سامنے آجائے۔ مگر وہ دن جب آئے گا تو وہ آج کے دن سے بالکل مختلف ہوگا۔ آج تو ماننے والے اور نہ ماننے والے دونوں بظاہر یکساں حالت میں نظر آتے ہیں۔ مگر جب فیصلہ کا دن آئے گا تو اس کے بعد وہی لوگ امن میں رہیں گے جو حق پرست ثابت ہوئے تھے۔ بقیہ تمام لوگ اس طرح عذاب کی لپیٹ میں آجائیں گے کہ اس کے بعد ان کے لیے کوئی راہ نہ ہوگی جس سے بھاگ کر وہ نجات حاصل کریں۔