قل يا ايها الكافرون ١ لا اعبد ما تعبدون ٢ ولا انتم عابدون ما اعبد ٣ ولا انا عابد ما عبدتم ٤ ولا انتم عابدون ما اعبد ٥ لكم دينكم ولي دين ٦
قُلْ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلْكَـٰفِرُونَ ١ لَآ أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ ٢ وَلَآ أَنتُمْ عَـٰبِدُونَ مَآ أَعْبُدُ ٣ وَلَآ أَنَا۠ عَابِدٌۭ مَّا عَبَدتُّمْ ٤ وَلَآ أَنتُمْ عَـٰبِدُونَ مَآ أَعْبُدُ ٥ لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِىَ دِينِ ٦
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
یہ سورۃ مکہ کے آخری زمانہ میں اتری۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابتداء ً ایک عرصہ تک ’’اے میری قوم‘‘ کے لفظ سے لوگوں کو پکارتے رہے۔ مگر جب اتمام حجت کے باوجود انہوں نے نہ مانا تو آپ نے ایہا الکافرون (اے انکار کرنے والو) کے لفظ سے خطاب فرمایا۔ اس مرحلہ میں یہ فقرہ در اصل کلمہ براءت ہے، نہ کہ کلمہ دعوت۔
میرے لیے میرا دین، تمہارے لیے تمہارا دین— یہ دوسروں کے دین کی تصدیق نہیں۔ یہ ایک طرف اپنے حق پر جمے رہنے کا آخری اظہار ہے۔ اور دوسری طرف وہ مخاطب کی اس حالت کا اعلان ہے کہ تم اب ضد کی اس آخری حد پر آگئے ہو جہاں سے کوئی شخص کبھی نہیں پلٹتا۔