رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بے آمیز حق کی دعوت لے کر اٹھے تھے۔ اس قسم کا کام موجودہ دنیا کا سب سے زیادہ مشکل کام ہے۔ چنانچہ آپ کو اس دعوت کی راہ میں اپنی ہر چیز کھو دینی پڑی۔ آپ اپنی قوم سے کٹ گئے۔ آپ کی معاشی زندگی برباد ہوگئی۔ آپ کی اولاد کا مستقبل تاریک ہوگیا۔ تھوڑے لوگوں کے سوا کسی نے آپ کا ساتھ نہیں دیا۔ مگر انہیں حوصلہ شکن حالات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر اتری کہ تم کو ہم نے کوثر (خیر کثیر) دے دیا۔ یعنی ہر قسم کی اعلی ترین کامیابی۔ قرآن کی یہ پیشین گوئی بعد کے سالوں میں کامل طور پر پوری ہوئی۔
یہی وعدہ درجہ بدرجہ پیغمبر اسلام کے امتیوں سے بھی ہے۔ ان کے لیے بھی ’’خیر کثیر‘‘ ہے بشرطیکہ وہ اس خالص دین کو لے کر اٹھیں جس کو پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب لے کر اٹھے تھے۔ اس خیر کثیر کا تعلق دنیا سے لے کر آخرت تک ہے، وہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔