آخرت کی پکڑ کا یقین آدمی کو نیک عمل بناتا ہے۔ جس آدمی کے اندر آخرت کی پکڑ کا یقین نہ رہے وہ نیکی کی ہر بات سے خالی رہے گا۔ وہ اللہ کی عبادت گزاری سے غافل ہوجائے گا۔ وہ بے زور آدمی کو دھکا دینے میں بھی نہیں شرمائے گا۔ وہ غریبوں کے حقوق ادا کرنے کی ضرورت نہیں سمجھے گا۔ حتی کہ وہ لوگوں کو ایسی چیز دینے کا بھی روادار نہ ہوگا جس کے دینے میں اس کا کوئی حقیقی نقصان نہیں، خواہ وہ دیا سلائی کی ایک ڈبیہ ہو یا کسی کے حق میں خیر خواہی کا ایک بول۔