الم يجعل كيدهم في تضليل ٢
أَلَمْ يَجْعَلْ كَيْدَهُمْ فِى تَضْلِيلٍۢ ٢
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

اس کے بعد کا فقرہ بھی سوالیہ ہے لیکن استفہام تقریری ہے ، یعنی ایسا سوال جس کا جواب اثبات میں ہوتا ہے۔

الم یجعل ........................ تضلیل (2:105) ” کیا اس نے ان کی تدبیر کو اکارت نہیں کردیا “۔ یعنی ان کے مکرو تدبیر کو اس طرح بےراہ نہیں کردیا کہ وہ نشانے پر نہ لگے اور اپنی منزل تک نہ پہنچے۔ اسی طرح جس طرح ایک انسان راہ گم کردے اور منزل مقصود تک نہ پہنچ سکے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ قریش کو یاد دلاتا ہے کہ اس نے ان افعام و احسان کیا۔ ان کی حمایت کی اور اس گھر کو بچایا اور اس وقت بچایا جب وہ خود ابرہہ کے لشکر جرار کا سامنا کرنے سے قاصر تھے۔ شاید کہ وہ شرم کریں اور اس ذات باری کا انکار نہ کریں۔ جس نے ان کی مدد نہایت کمزوری اور عاجزی کی حالت میں کی تھی۔ ان کا کردار اس وقت بعینہ اسی طرح کا ہے جس طرح ابرہہ کا تھا۔ وہ مکہ کے مٹھی بھر مسلمان کو اپنے غرور اور قوت کے بل بوتے پر روندڈالنا چاہتے تھے۔ ان کو چاہئے کہ ذرا اس زور آور کا حال یاد کرلیں جس نے بیت اللہ پر چڑھائی کی تھی اور اس کی حرمت کو پامال کرنے کا ارادہ کرلیا تھا۔ اللہ یہ طاقت رکھتا ہے کہ جس طرح اس نے بیت اللہ کو بچایا ، اسی طرح اس کی دعوت کو لے کر چلنے والی حزب اللہ کو بھی بچائے۔

سوال یہ ہے کہ اللہ نے پھر ان کی مکاری کو کس طرح گمراہ اور خطا کردیا ، تو اس کی تصویر کشی بھی قرآن کریم نہایت خوبصورت انداز میں کرتا ہے۔