ترازو کے پلڑوں کے بھاری ہونے اور خفیف ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ پیمانے جن کا اللہ کے ہاں اعتبار ہے اور وہ پیمانے جن کا اللہ کے ہاں کوئی وزن نہیں ہے ، یہی بات قرآن کریم کے مجموعی انداز بیان سے معلوم ہوتی ہے۔ واللہ اعلم !
رہے وہ عقلی اور لفظی مباحث جو ان امور کے بارے میں مفسرین ومتکلمین کرتے ہی۔ یہ قرآن کریم کے ساتھ ناانصافی ہے۔ یہ مباحث وہی لوگ کرتے ہیں جو قرآن کریم کی حقیقی ترجیحات اور اہتمامات سے واقف نہیں ہوتے۔
فاما من ................ موازینہ (6:101) ” پھر جس کی قدریں اہم ہوں گی “ اور اللہ کے ہاں وہ درست ہوں گی۔