You are reading a tafsir for the group of verses 101:2 to 101:4
ما القارعة ٢ وما ادراك ما القارعة ٣ يوم يكون الناس كالفراش المبثوث ٤
مَا ٱلْقَارِعَةُ ٢ وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا ٱلْقَارِعَةُ ٣ يَوْمَ يَكُونُ ٱلنَّاسُ كَٱلْفَرَاشِ ٱلْمَبْثُوثِ ٤
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
undefined
3

آیت 2{ مَا الْقَارِعَۃُ۔ } ”کیا ہے وہ کھٹکھٹانے والی !“ قَرْع کے معنی ایک چیز کو کسی دوسری چیز پر زور سے دے مارنے کے ہیں۔ جیسے دروازے کو زور زور سے کھٹکھٹانا۔ اس لغوی معنی کی مناسبت سے قارعہ کا لفظ ہولناک حادثے اور عظیم مصیبت کے لیے بولا جاتا ہے۔ چناچہ جب کوئی قوم کسی حادثہ فاجعہ یا عظیم آفت کا شکار ہو تو عرب کہتے ہیں : قَرَعَتْھُمُ الْقَارِعَۃُ۔۔۔۔ یعنی وہ قیامت جب آئے گی تو پوری کائنات کو کھٹکھٹا ڈالے گی اور دنیا کی ہرچیز کو تہ وبالا کر دے گی۔ تمام اجرامِ فلکی آپس میں ٹکرائیں گے جس سے خوفناک دھماکے ہوں گے اور دل دہلادینے والی آوازیں پیدا ہوں گی۔